23 feb 2019

Saturday, September 12, 2020

حکومتیں آتی رہے گی جاتے رہے گی. ہمارا کام وقتی طور پر پنجہ آزمائی نہیں ہے.. ہم جس نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں اسکو بہتر بنانا ہے. جمہوریت کے علمبردار ہو تو جمہوریت کے اندر غیر جمہوری افراد کو پہچاننا اور انھیں وہاں سے باہر نکالنا ضروری ہے. ہماری غلطی ہے ہم حکومت سازی میں حصہ نہیں لیتے.. 1/4 آبادی کا حکومت سازی میں شامل نہ ہونا اور جو حکومتیں تشکیل دی جاتی ہے ان میں ہماری نمائندگی کو حاشیہ پر رکھنا ہمارا سماجی سیاسی معاشی استحصال ہے یہ بحران ہے. یہ جمود ہے... مسلم دلت، عیسائی، او بی سی، ایس ٹی ایس سی پر ہو رہے مظالم کا ہم احتساب لیں گے

بات دین سے انسانیت کی

Saturday, September 12, 2020

آج کے مذہبی طبقہ کا حال بہت عجیب ہے. یہ لوگ خدا اور رسول کی باتیں سنا کر اور لوگوں کو جمع کر کے ان کا وقت اور پیسہ ایسی جگہ ڈالتے ہیں جہاں سے امت کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا. اب تو یہ لوگ اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ اسلام کے کام کو انسانیت کے نام سے کرنا انکی مجبوری ہو گءی ہے. یہ غیروں میں جب جاتے ہیں تو کہتے ہیں بھائی، انسانیت بہت بڑی چیز ہے. افسوس، اسلام کا جھنڈا ہاتھ میں رکھنے والے اسلام کو چھوڑ، انسانیت کو ہی سب سے بڑا مذہب کہلوانے پر تلے ہیں.


مولیانا انداز

Saturday, September 12, 2020

تقریباً کچھ ماہ قبل ایک دھمکی آمیز خط واءرل کیا گیا تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ مسلمانو! اگر تم نے ان اہل مدارس کو کچھ نہ دیا، ستایا اور خالی ہاتھ لوٹایا تو یاد رکھو یہ اللہ کے بندے تم سے کہیں گنا زیادہ ہنر مند ہیں. ان میں صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری پڑی ہیں. پھر جب یہ لوگ میدان میں اتریں گے تو بازار میں تم کو کوئی نہیں پوچھے گا اور تجارت میں انکا طوطی بولےگا. اس لیے انھیں مجبور نہ کرو اور خاموشی سے حاجتیں پوری کردیا کرو..

اللہ کو رزاق ماننے والے ایسی بھی باتیں کرتے ہیں تعجب ہوتا ہے. بہت سے بیانات تو مودی کے من کی بات کی طرح ہی ہیں.. مونولاگ... ہمارے یہاں ڈائیلاگ کا سسٹم نہیں کے برابر ہو گیا ہے. اکثر مولانا صرف من کی بات ہی کرتے ہیں. عوام کی بات اور عوامی مسائل پر تو وہ کان تک نہیں دھرتے.   سرمایہ دار طبقہ یا مسلمانوں میں اثر رسوخ بنا چکا طبقہ، جمعہ کا انتظار اسی لیے کرتا ہے کہ وہ اپنے کام کی بات منبر سے منوا سکے.

قلم کی طاقت

Saturday, September 12, 2020

جس طرح مسلمان  ماضی کے زخموں کو یاد کر کے ناسور بنا دیتے ہیں اسی طرح شاندار ماضی کو یاد کرکے دوبارہ استحکام حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے.  اگر لکھاری ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر وہ نِرا بَمّن  ہے اور سماج کے لیے ناسور ہے. 

٥ جولائی ٢٠١٩

گرتی دیوار

Saturday, September 12, 2020

قیادتوں کے لیے جھوٹ اب ہتھیار ہے. جھوٹ میں سچ کو ملانا اور پھر جذباتی استحصال کرنا انکے لیے چٹکیوں کا کھیل ہے.

٣ ستمبر ٢٠١٩

فیسبک پر پسند کیجیئے

فلک آر تصاویر