١٦ جنوری

میونسپل کارپوریشن الیکشن

Saturday, January 17, 2026

وہ اور اسکے اہل خانہ 15 دن دعا میں رہے. اللہ سے جیت مانگتے رہے. آج جیت گیا تو سیدھے پارٹی دفتر بھاگا اور سجدہ میں گر گیا.

#میرا مسیحا

فضائل مجلس

Saturday, January 10, 2026

شین الف فضائل مجلس کتاب میں لکھتا ہے کہ عمران پراتاپگڑھی کو خبر ہی نہیں ہوئی کہ کب اسکی توپ کا منہ بی جے پی سے ہٹا کر مجلس کی طرف کر دیا گیا. مجلس بھارتی سیاست میں پریشر گروپ کا بہترین کردار ادا کر رہی ہے. مجلس اب مسلم سیاست کے لیے فیکٹری بن چکی ہے جہاں سے مسلم سیاسی رہنما نکل رہے ہیں.

بالاپور بلدیاتی انتخاب ٢٠٢٥

Friday, January 02, 2026

بالاپور -  نئی منتخب جمو سرکار کو عوام کے ذریعہ ملی عزت و کامیابی مبروک 

 حالیہ الیکشن کے اصلی ہیرو کالونی سے سجاد صاحب اورعلاقہ شہر سے ناصر حسین صاحب کو بلدیہ کے نتائج کی پُرخلوص مبارکباد


انجینئر ابو سیف بالاپوری 

(جمو سرکار کو سلسلہ وار خطوط -  خط اول) 

السلام وعلیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ 

بعد از مبارکباد،

دوران الیکشن، سید ناطق الدین صاحب اور انکے افراد خانہ کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی وہ قابلِ مذمت ہے. اسی طرح خطیب صاحب کے امیدواروں کی طرف سے کی جانے والی غلط زبانی کی بھی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں. 


 الیکشن مہم میں عوام الناس نے جس بات کو نوٹ کیا ہے وہ یہ ہے کہ اکثر مہذب اراکین (خواہ کسی پارٹی سے ہو) نے اپنے وقار سے نیچے گر کر غلط زبان کا استعمال کیا اور محلہ باڑے میں بازار میں مرد و خواتین، چھوٹے بچوں و نوجوانان بالاپور کے روبرو کیا. مخالف کی پالیسیوں کو لیکر اپنی آراء سے عوام کو بآور کرانا اچھی بات ہے. سخت لہجہ  اپنا سکتے ہیں، مشکل سے مشکل ترین سوالات  کیجیے ، گفتگو میں گھیراؤ کیجیے لیکن گنجان مسلم آبادی والے قصبہ میں مسلم امیدواروں کی  زبان سن کر اور مزاج دیکھ کر  شدید افسوس ہوا. وہ لوگ جو تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کا دم بھرتے ہیں، جو نو نہالوں کی اور نئی نسل کی تربیت کو لیکر کوشاں نظر آتے ہیں ان ہی حضرات کی زبان گالیوں اور نفرت سے بھری تھی.  پھر میدان عمل میں ایسے منتخب ارکان سے کیا ہی کام لیا جاسکتا ہے؟ ہم امید بھی رکھیں تو کس سے اور کیا؟ عوامی پلیٹفارم پر جنکا لہجہ، ہاؤ بھاؤ تاؤ میں سنجیدگی تو دور زبان کا صحیح استعمال تک نہیں تھا. 

دونوں طرف کے امیدواروں نے الیکشن کے دروان جو چرب زبانی، لفاظی اور گالیوں کے قریب ترین اصطلاحات کا استعمال کیا اسے دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ ہمارے یہ اراکین کسی درجہ تعلیم کے تئیں سنجیدہ ہیں.  انفرادی حیثیت میں کون امیدوار کیسا ہے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں لیکن جب لیڈران اجتماعی سطح سے ایکدوسرے کے خلاف اس قدر بدتمیزی کرے تو نئی نسل پر اور شعور مند اذہان پر اسکے سنگین اور دور رس  نتائج دیکھنےکو ملتے ہیں. 


ایک معزز رکن بلدیہ کا یہ کہنا کہ انجمن فلاں کے باپ کا نہیں ہے اس جملہ میں ذاتی حق کا اظہار کم اور نفرت شدید نظر آتی ہے اور اس پر المیہ کہ یہی صاحب ہمارے معاشرے کے قابل انسان ہے. بتائیے دونوں خیموں میں موجود قوم کے قابل افراد الیکشن کے میدان میں پارٹی کی پالیسیوں کو چھوڑ کر ایکدوسرے کی عزت کو پامال کر رہے ہیں اور گھروں تک حملہ کر رہے ہیں تو ایسے ارکان، معاشرہ کے فلاحی کاموں کو لیکر کتنے ایماندار ہوسکتے ہیں؟ کوئی فرد یہ دلیل دے کہ الیکشن میں  ایسا ہی بولنا ہوتا ہے تو یہ غیر مہذب قوم کا شیوہ تو ہوسکتا ہے لیکن مہذب قوم کے مہذب لیڈران کا نہیں چہ جائے کہ لیڈر گلی ہی کا لیڈر کیوں نہ ہو. 

 تقریر میں غیر مہذب الفاظ کا استعمال انسان کے بونا ہونے کی پہلی نشانی ہے اور کوئی بونا انسان کیونکر معاشرے کو اونچائی پر لے جاسکتا ہے. ١٠ سال سے چھاتی دِکھا (پیِٹ) رہے ٣٦ انچ والے صاحب کو ہی دیکھ لیجیے. 

 سیاسی مبصر یہ کہہ کہ سیاست اور الیکشن میں زبان کا ایسا استعمال بہت نارمل سی بات ہے تو پھر 5 سال میں کچھ دن ایسے ہوں جس میں کسی مہذب انسان کو غیر مہذب بن جانے کی چھوٹ مل جائے اور بعد الیکشن یہی امیدوار ہم سب کو تہذیب کا درس دیتا رہے. یہ فطرتاً ناقابلِ قبول ہے. 

 تعلیم کا معیار بلند کرنے کا دعویٰ کرنے والوں کو ڈاکٹر انجینئر یا دیگر اسناد و کاغذات  کی نہیں، بلکہ علم سے جو فکر پیدا ہوتی ہے ان بنیادی صفات کی ضرورت ہے. 
الیکشن نتائج کے بعد بھی بدتمیزی کا سلسلہ جاری ہے. تاریخی و مہذب شہر بالاپور کے منتخب اراکین کا ترقی و تعلیم کو لیکر جو دعویٰ اور فکر رہی، اس پر قبل از وقت کچھ کہنا ناانصافی ہے لیکن سب سے بڑی رکاوٹ خطیب شاہی کو دور کرنے کے بعد بھی ان اراکین کی زبان کا مزہ اسی ایک گھرانہ کے اطراف گھوم رہا ہے. نئی لیڈرشپ نے اب تک عوامی فلاح و بہبود کا کوئی منصوبہ تک پیش نہیں کیا. اب بھی انکی محفلوں میں عوام کو ہنسایا جا رہا ہے. بہلایا جا رہا ہے.

 بالاپور کی عوام نے خطیب مخالف لہر میں جس سرکار کو منتخب کیا ہے اس کے لیڈران کو چاہیے کہ منصوبہ جات پیش کیے جائیں اور ان پر فوری عمل ہو. لوگوں کی راحت کا سامان مہیا کیا جائے. بازار کو صاف ستھرا رکھے ، پارکنگ کا انتظام کرے. سڑکوں پر دکانوں کے پھیلاؤ کو روکا جائے. مودی اور مودی بھکتوں کی طرح 70 سالہ غلامی والا فقرہ کسنا غلط بیانیہ ہے. اگر آپ بھی مودی اسکول سے یہی سیکھ کر آئے ہیں تو پھر کہنا پڑے گا کہ یہ غلامی والی اصطلاح بالاپور کے لیے اور یہاں کی عوام کے لیے توہین ہے. عوام نہ پہلے غلام رہی اور نہ آج غلام ہے. عوام کو برسوں بعد متبادل ملا تو ایسے نتائج ملے. ہماری جمو سرکار سے گزارش ہے کہ مودی کی طرح نہرو کی پالیسیوں کو غلط بتا کر پانچ سال تک گزارا کرنے کا خواب نا ہی دیکھے تو بہتر ہے کیونکہ عوام میں بیداری کی عجیب کیفیت دیکھی گئی بعض محلوں میں رشتہ داروں تک نے اپنا رشتہ دار چھوڑ کر اصل سماجی جہد کار کو ووٹ کیا لیکن رشتہ کا بوجھ کمیٹی تک نہیں گھسیٹا.  محمد سجاد صاحب عرف سجو کا جیتنا عوامی بیداری کا بہترین ثبوت ہے. 
محمدسجاد صاحب سے زیادہ مبارکباد کے مستحق کالونی کے ووٹرس ہیں جنکی کوشش سے سماج کا صحیح جہد کار اصل مقام تک پہنچا. اسی طرح علاقہ شہر میں ناصر حسین صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں. انکی ذاتی قربانی سے اکرم صاحب منتخب ہوئے. امید ہے کہ مستقبل میں شعیب کالونی جیسی رسم بدستور جاری رہے گی اور دیگر محلوں میں بھی دہرائی جائے گی اور لوگ بغیر کسی دباؤ کے اپنا من پسند لیڈر منتخب کریں گے.

دوسری طرف یہ پانچ سال خطیب صاحب،  انکے پارٹی ورکرس اور افراد خانہ و اعزا کے لیے سنہری دور کے مانند ہے. فرصت کے لمحات غنیمت ہوتے ہیں اور انہی لمحات میں انسان خود کو مستقبل میں درپیش چیلنجز کے لیے تیار کرتا ہے. کوئی حکومت دائمی نہیں ہوتی ہے. ستہ میں رہنے والے کے دشمن ہزار ہوتے ہیں. اگر منتخب بلدیاتی اراکین اپنے وعدوں میں نفاق پر ہو تو بعید نہیں آنے والے الیکشن میں بالاپور کی عوام مجلس کا سہارا لیکر انکو بھی کنارے لگا دے. 
 ہم دعا گو ہیں کہ جس طرح بالاپور کی عوام نے حالیہ الیکشن میں پرانی حکومت کےکام کاج سے ناراض ہو کر نئے لوگوں کا انتخاب کیا ہے مستقبل میں بھی ایسے افراد کا انتخاب کرے گی جو صرف اور صرف عوام فلاح کے لیے پیش پیش رہتے ہیں چرب زبانی اور ٹھرے بازی سے دور رہتے ہیں. 

ڈاکٹر آفرین (صدر بلدیہ بالاپور) اور انکے والد ضمیر صاحب عرف جمو سیٹھ کے لیے میر تقی میر کا یہ شعر 
 
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو



انجینئر ابو سیف بالاپوری
(شین الف خان)  
١ جنوری ٢٠٢٦

Iran Israel War

Sulphuric Acid

Thursday, June 19, 2025

ایک سلفی کا ورک ،  سلفی ورک کہلاتا ہے جسے ملا کا پڑھا جائے تو سلفیورک بن جاتا ہے. یہ پڑھنے والے کو جلا دیتا ہے😅


 444302 - Lost Wisdom

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ترسیلات

فیسبک پر پسند کیجیئے

فلک آر تصاویر