غیب علم جاننے والے، جھاڑپھونک کرنے والے اور موکل کو اپنی مٹھی میں رکھنے والے ایکزٹ پول پر خاموش کیوں رہتے ہیں. یہ بھی ایک دھندا ہی ہے.
مودودیت میں فقط اسلام نظر آتا ہے. کسی کا رد نہیں. قلم کے دھنی بیشتر لوگوں نے مولانا مودودی کے خلاف خوب لکھا اور اسکا پرچار بھی کیا لیکن شکر ہے اللہ کا کہ اس دور میں جب میں مولانا مودودی کو پڑھتا ہوں اور انکے مخالفین کو پڑھتا ہوں تو صاف نظر آتا ہے کہ مودودی اسلام کا پرچم لیے میدان میں کھڑا ہے اور بقیہ لوگ اپنے اپنے مسلک اور گروہ کی نمائندگی کے پرچارک.
مولانا مودودی نے اعتراضات کو خاطر میں نہ لا کر اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ خوشبو بکھیرنے والے اور کیچڑ اچھالنے والے میں کیا فرق ہوتا ہے.
شادیاں انکی بھی ہوگءی جنکو نہ تھا کچھ خیالِ یار
مسئلہ مجنوؤں کا ہے جو خیالِ یار میں بھٹک گءے
جمیعت دراصل علماء کی اسوسی ایشن ہے. اسلامی جماعت نہیں ہے. یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی شہر گاؤں، ریاست یا ملک میں ڈاکٹرس کی جماعت ہوتی ہے، انجینئرس کی جماعت ہوتی ہے. مزدوروں کا سنگھٹن ہوتا ہے. حالانکہ کہ یہ لوگ تعداد میں زیادہ ہے لیکن کام کرنے کے لیے تعداد کی نہیں منصوبوں کی ضرورت ہوتی ہے.
میں سبھی نوجوانوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ سب سے پہلے اپنے اہل و عیال اور خاندان کی تعلیم کی فکر کریں.... جو لوگ اعلی فکر کے حامل ہیں وہ اپنے محلہ، گاؤں میں فکری کمیٹیاں بنائیں، زکات کا اجتماعی نظام شروع کریں. غریب ، مسکین، یتیم، بیوہ، مقروض، بیمار خاندانوں کی دیکھ بھال کریں. ایسے خاندانوں کے بچے بچیوں کی تعلیم کو جاری رکھنے کے لیے انکی امداد کریں. لوکل اجتماعیت کی طرف بڑھیں اور بڑی طاقتوں کو حاشیہ پر ڈھکیل دیں اپنے ایشوز باہمی مشوروں سے حل کریں. کسی ایوبی یا محمود کے آنے کا انتظار آپکی نسل کو مزید غلام بنا سکتا ہے. اگر کوئی لوکل اجتماعیت میں دراندازی کرتا ہے یا منصوبوں کو divert کرتا ہے تو اسے باہر نکال دیں... جھگڑا نہ کریں .. آپکی لوکل طاقت ہی آپکی نسل کے لیے بقا کی چابی ہے... اس لوکل طاقت کو دوسری لوکل طاقت کے ساتھ استعمال کریں. ضلعی و ریاستی اعتبار سے خود کو لوکل دھاگوں سے منطبق کرتے ہوئے اپنا دفاع مضبوط کیجیے. قرآن کو سمجھ کر پڑھیے.
صرف مٹھی بھر مخلص، علمی اور صبر و حکمت والے نوجوان ہی یہ کام کرسکتے ہیں.
لوگوں کی طرح آپ کو کردار کشی نہیں کرنا ہے.... لوگ جاہلیت کی سیڑھی پر اوپر چڑھ رہے ہیں جس کے کسی نا کسی پائیدان پر سانپ بیٹھا ہے...
مجھے ایسے لوگوں میں دلچسپی نہیں. ذرہ برابر بھی نہیں... کیونکہ زندگی ان سے بہت اوپر اور بہت خوب صورت ہے۔ اس کا مزہ وہی لے سکتا ہے جس کے پاس مقصد ہو۔ بے مقصد لوگوں کے لیے دنیا کا ہنگامہ ہے۔ شور ہے..
جب آپ مطالعہ کرتے ہیں اور باہر سڑک پر کتے بھونکتے ہیں تو آپ مطالعہ نہیں روکتے؛ بل کہ کمرے کی کھڑکیاں بند کر دیتے ہیں... ایسا ہی کریں.
اس زمانہ میں لوگ اچھے اور برے کی بجائے "تو تو میں میں" میں مصروف ہیں.
نیکوں کے ساتھ نیکی کریں اور برے کو اس کے حال پر چھوڑ دیں. برے کے لیے اس کی فعل بد ہی کافی ہے۔