آج کے مذہبی طبقہ کا حال بہت عجیب ہے. یہ لوگ خدا اور رسول کی باتیں سنا کر اور لوگوں کو جمع کر کے ان کا وقت اور پیسہ ایسی جگہ ڈالتے ہیں جہاں سے امت کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوتا. اب تو یہ لوگ اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ اسلام کے کام کو انسانیت کے نام سے کرنا انکی مجبوری ہو گءی ہے. یہ غیروں میں جب جاتے ہیں تو کہتے ہیں بھائی، انسانیت بہت بڑی چیز ہے. افسوس، اسلام کا جھنڈا ہاتھ میں رکھنے والے اسلام کو چھوڑ، انسانیت کو ہی سب سے بڑا مذہب کہلوانے پر تلے ہیں.
تقریباً کچھ ماہ قبل ایک دھمکی آمیز خط واءرل کیا گیا تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ مسلمانو! اگر تم نے ان اہل مدارس کو کچھ نہ دیا، ستایا اور خالی ہاتھ لوٹایا تو یاد رکھو یہ اللہ کے بندے تم سے کہیں گنا زیادہ ہنر مند ہیں. ان میں صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری پڑی ہیں. پھر جب یہ لوگ میدان میں اتریں گے تو بازار میں تم کو کوئی نہیں پوچھے گا اور تجارت میں انکا طوطی بولےگا. اس لیے انھیں مجبور نہ کرو اور خاموشی سے حاجتیں پوری کردیا کرو..
اللہ کو رزاق ماننے والے ایسی بھی باتیں کرتے ہیں تعجب ہوتا ہے. بہت سے بیانات تو مودی کے من کی بات کی طرح ہی ہیں.. مونولاگ... ہمارے یہاں ڈائیلاگ کا سسٹم نہیں کے برابر ہو گیا ہے. اکثر مولانا صرف من کی بات ہی کرتے ہیں. عوام کی بات اور عوامی مسائل پر تو وہ کان تک نہیں دھرتے. سرمایہ دار طبقہ یا مسلمانوں میں اثر رسوخ بنا چکا طبقہ، جمعہ کا انتظار اسی لیے کرتا ہے کہ وہ اپنے کام کی بات منبر سے منوا سکے.
جس طرح مسلمان ماضی کے زخموں کو یاد کر کے ناسور بنا دیتے ہیں اسی طرح شاندار ماضی کو یاد کرکے دوبارہ استحکام حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے. اگر لکھاری ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر وہ نِرا بَمّن ہے اور سماج کے لیے ناسور ہے.
٥ جولائی ٢٠١٩
قیادتوں کے لیے جھوٹ اب ہتھیار ہے. جھوٹ میں سچ کو ملانا اور پھر جذباتی استحصال کرنا انکے لیے چٹکیوں کا کھیل ہے.
٣ ستمبر ٢٠١٩
انکے لوگوں کے لیے کیا کلمہ ہوگا جو ظاہر میں مرید بنے پھرتے ہیں لیکن باطن عداوت سے بھرا ہے.