balapur

ریت کے محل

Monday, July 01, 2019

مسلمانوں کی ایک آدھ  تنظیم کو چھوڑ باقی سب راجواڑے ہیں. تنظیم کا امیر تانا شاہ اور اسکے ماتحت کام کرنے والے سب اسکے غلام.... دنیا کو دکھانے کے لیے آٹے میں نمک کے برابر معتدل و سنجیدہ افراد کو لیا جاتا ہے اور اس پر بھی انکی راءے کو حاشیہ پر رکھا جاتا ہے.. کمال ہوشیاری یہ ہوتی ہے کہ اپنی سوچ کو تنظیم کا اخلاقی ڈھانچہ بتا کر نافذ کیا جاتا ہے. جو انکی سوچ سے میل نہیں کھاتا اسے گھانس تک نہیں ڈالتے اور جو انکے پچھواڑے چمٹا رہتا ہے اسکی چاندی ہی چاندی.

میں تو اب ہر ابھرتی تحریک اور ہر نئے نام کو پیتل پر سونے کی ملمع کاری سمجھتا ہوں.

پیڈ آرٹیکلس اور پیڈ پبلک ریلیشنز کمپنی و افراد کے ذریعے یہ بامِ عروج تک پہونچتے پہونچتے اچانک غائب ہوجاتے ہیں. پیسہ ختم قصہ ختم..

اگر واقعی کچھ لوگ مخلص ہیں تو پھر انھیں اخوان کی طرح کام کرنا چاہیے.





balapur

دور حاضر کا شوشہ

Thursday, June 27, 2019

یہ عجیب بات ہے کہ ہر وہ سیکولر مشہور ہستی جس سے ہماری تنظیمیں ربط میں  ہیں ان کے بارے میں  یہ شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ اسلام سے بہت قریب ہے یا پھر انھوں نے تنظیم کے کان میں کلمہ پڑھ لیا ہے، عوام کو نہیں معلوم!!

الف

balapur

ٹھیکیداری

Thursday, June 27, 2019

جب کوئی مسلم مبصر اپنی قیادت کے بارے میں لکھتا ہے اور بدلنے کی بات کرتا ہے تو اسے وہ لوگ بھی ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں جو ترقی پسند ہیں. یہی بات اگر کوئی غیر مسلم مفکر لکھ دے تو خود مسلم مبصر  جو اس بات سے اتفاق کرتا آیا ہے لکھتا ہے کہ یہ اسلام کے خلاف سازشی کام ہے.

-ش الف

دوغلا آدمی

اور واہ واہ نکل جاتی ہے۔۔۔

Wednesday, September 27, 2017

چاہتا ہے کہ دوسرے جہاد کرے
اور خود کے بچے مشینری میں جہاد مخالف تعلیم حاصل کرے

چاہتا ہے کہ جہاد ہو لیکن وہ اسمیں شریک نہ ہو کیونکہ اسکے بال بچے ہیں
جانتا ہے کہ جہاد اسلام کی طاقت ہے لیکن اپنے بچوں کو جہاد پر بات کرنے والے افراد سے بچاتا پھرتا ہے
چاہتا ہے کہ دوسرے اسکی جگہ لڑے اور وہ صرف گھر سے مسجد جانے تک کے سفر کو مجاہدہ کہہ کر بیٹھ جائے
پھر ملحد کا یہ شعرکہ
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لے
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

پر اس کی واہ واہ نکل جاتی ہے...

سرمایہ دارانہ نظام کا جمورا

مکاروں کا ریوڑ

Wednesday, September 27, 2017



واٹسآپ پر مجھےیہ تصویر موصول ہوئی۔غور سے دیکھئے



اس طرح کی پل سراط پر چلنے سے بہتر ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر لگام کسے۔

آج کے دور میں مشکل ہے لیکن نا ممکن نہیں. اوروں کی طرز پر چلنے والے ایسے ہی راستے پر لگ جاتے ہیں۔

یہ سماج ہی تعفن زدہ ہو گیا ہے۔ اس سماج سے دولت جھوٹی امارت کی بد بو آتی ہے۔

اس سماج میں رہنے والے دوسروں میں خلوص دیکھنا پسند کرتے ہیں اور خود کی ذات میں دنیاداری کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ سماج ان ناپاک دو پیروں والے جانوروں کی آماجگاہ بن چکا ہے جو اپنا مسکن صاف رکھنے کے لئے دوسروں کا مسکن گندہ کرنے کو اسٹریجی کہتے ہیں۔

یہ سماج سے واقعی بہت گندی بہت زیادہ گندی بدبو آ تی ہے۔

سب زندہ لاشیں عمدہ نفیس اجلے کپڑوں میں ملبوس سڑ گل کر خراب ہو چکی ہیں۔

انکا علاج سرجری نہیں۔۔۔

انکا علاج غسل بھی نہیں۔۔۔

کیونکہ تعفن انکے دماغوں سے ظاہر ہے۔

کیا یہ انسانوں کے رہنے کا سماج ہے یا بس مکاروں کا ریوڑ؟

فیسبک پر پسند کیجیئے

فلک آر تصاویر