تقریباً کچھ ماہ قبل ایک دھمکی آمیز خط واءرل کیا گیا تھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ مسلمانو! اگر تم نے ان اہل مدارس کو کچھ نہ دیا، ستایا اور خالی ہاتھ لوٹایا تو یاد رکھو یہ اللہ کے بندے تم سے کہیں گنا زیادہ ہنر مند ہیں. ان میں صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری پڑی ہیں. پھر جب یہ لوگ میدان میں اتریں گے تو بازار میں تم کو کوئی نہیں پوچھے گا اور تجارت میں انکا طوطی بولےگا. اس لیے انھیں مجبور نہ کرو اور خاموشی سے حاجتیں پوری کردیا کرو..
اللہ کو رزاق ماننے والے ایسی بھی باتیں کرتے ہیں تعجب ہوتا ہے. بہت سے بیانات تو مودی کے من کی بات کی طرح ہی ہیں.. مونولاگ... ہمارے یہاں ڈائیلاگ کا سسٹم نہیں کے برابر ہو گیا ہے. اکثر مولانا صرف من کی بات ہی کرتے ہیں. عوام کی بات اور عوامی مسائل پر تو وہ کان تک نہیں دھرتے. سرمایہ دار طبقہ یا مسلمانوں میں اثر رسوخ بنا چکا طبقہ، جمعہ کا انتظار اسی لیے کرتا ہے کہ وہ اپنے کام کی بات منبر سے منوا سکے.