ہماری مصیبتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سب سے زیادہ جن علاقوں میں کام کرنا ہے وہ دیہات اور تعلقہ سطح کے علاقے ہیں. لیکن افسوس کہ تحریکیں اور سماجی کارکنان شہروں میں بھاری مجمع اور کثیر رقم جھونک دیتے ہیں.
مجھے اس بات کا حد درجہ غم رہے گا کہ کس طرح تحریکی افراد دیہی علاقوں کے لیے سفر کی مشکلات سے گھبراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک دو مقررین کے لیے سارا گاؤں ضلعی مقام پر جمع ہو جاءے
اللہ کا شکر ہے کہ اس زمانہ میں بھی ایسے افراد زندہ ہیں جو لوگوں کی ضرورتوں اور تحریکی اعلامیہ کو خود چل کر گھر گھر پہنچاتے ہیں.
اس سے پہلے کہ ہندتوا قوتیں بھارت میں کورونا کے پھیلاؤکو بھی ہندی مسلمانوں سے جوڑ دے، اور تحریکات، دھرنے، آندولن، مساجد اور مسلمانوں کی پسماندگی و عوامل کو ٹارگٹ کرے، جلد از جلد اس پر کام ہو.... کورونا کے پیچھے سازشی منصوبے، معیشت کی جنگ اور ممالک کی آپسی ٹکراؤ کی کہانیاں ایک طرف اور ہندی مسلمان کی بقا کی جنگ ایک طرف....