ہماری مصیبتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سب سے زیادہ جن علاقوں میں کام کرنا ہے وہ دیہات اور تعلقہ سطح کے علاقے ہیں. لیکن افسوس کہ تحریکیں اور سماجی کارکنان شہروں میں بھاری مجمع اور کثیر رقم جھونک دیتے ہیں.
مجھے اس بات کا حد درجہ غم رہے گا کہ کس طرح تحریکی افراد دیہی علاقوں کے لیے سفر کی مشکلات سے گھبراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک دو مقررین کے لیے سارا گاؤں ضلعی مقام پر جمع ہو جاءے
اللہ کا شکر ہے کہ اس زمانہ میں بھی ایسے افراد زندہ ہیں جو لوگوں کی ضرورتوں اور تحریکی اعلامیہ کو خود چل کر گھر گھر پہنچاتے ہیں.
اس سے پہلے کہ ہندتوا قوتیں بھارت میں کورونا کے پھیلاؤکو بھی ہندی مسلمانوں سے جوڑ دے، اور تحریکات، دھرنے، آندولن، مساجد اور مسلمانوں کی پسماندگی و عوامل کو ٹارگٹ کرے، جلد از جلد اس پر کام ہو.... کورونا کے پیچھے سازشی منصوبے، معیشت کی جنگ اور ممالک کی آپسی ٹکراؤ کی کہانیاں ایک طرف اور ہندی مسلمان کی بقا کی جنگ ایک طرف....
واٹسآپ پر جس طرح کے پیغامات آ رہے ہیں وہ ہمیں، معاشرے سے الگ کرتے ہیں.... بحیثیت مومن کے، مسلمانوں کا کام اور ذمہداری اور بھی زیادہ بڑھ چکی ہے.
یہ کہنا کہ یہ آفت غیروں کے لیے ہے، راہ فرار ہے. کورونا ہر خاص وعام کے لیے برابر ہے.
مستقبل میں کیا حالات ہو سکتے ہیں، اللہ بہتر جانتا ہے لیکن اس وقت جو مزاج قوم کے اکثر افراد کا بن چکا ہے وہ نہایت ہی غیر ذمہدارانہ ہے. یہ گمان کہ کورونا اللہ کی طرف سے غیروں کے لیے عذاب ہے اور مسلم اس سے مستثنی ہے، ہماری غفلت کی نشانی ہے. یہ گمان کرلینا ہمیں انسانیت سے الگ تھلگ کرتا ہے. یہ یہودیوں جیسی علامات ہیں.
اس وقت ہر ذی شعور انسان احتیاطی تدابیر اختیار کرے. ایکدوسرے کے لیے مصبیت کا کا ذریعہ نہ بنیں. غیر مسلم برادران کے درمیان ایسی کوئی گفتگو نہ کریں کہ جس سے اللہ اور ایشور کی لکیر بن جاءے. اسلامی مشن اور دعوت کا یہ سب سے بہترین موقع ہے. انسانوں کو ہمدردی کی ضرورت ہے. انکے کام آءیں. معاملات کو سنجیدگی سے لیں. دنیا کے سبھی ممالک اس وبا میں گرفتار ہے. آفت کے وقت، اپنے مقابل والوں پر ہنسنا، ان پر طنز کرنا، مارے حسد و جلن کے جلی کٹی باتیں کرنا کمینے اور کم ظرف لوگوں کی علامت ہے. اپنے ظرف کو پہچانیے. مومن کی طرح برتاؤ کیجیے. حسن اخلاق سے اور اچھی باتوں کی تلقین کر کے اپنے ہمسایوں کا دل جیتیں...
غلط الفاظ کا انتخاب کرکے، خدا کے غضب کو دعوت نہ دیں.. وبا ہر خاص وعام کے لیے ہے. اللہ سے دعا کریں کہ اس وبا سے سارے انسانوں کو محفوظ رکھے.
لایعنی گفتگو، سازشی منصوبے اور ممالک کی دشمنی کو چھوڑ اس وقت، اپنے مسلم ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے فکر و عمل سے اسلام بنام انسانیت کا پیغام کا اظہار کریں.
جہاں یہ وبا ہے وہاں بھی اور جہاں یہ وبا اب تک نہیں پھیلی وہاں بھی.
وہ مرد حضرات بھی خواتین سے کم نہیں جو دفعہ 144 کے اطلاق کے باوجود گھروں سے باہر نکل کر محلہ میں گروپ بناتے ہیں اور عورتوں کی طرح گپ شپ کرتے ہیں. بیچاری خواتین مفت میں ہی بدنام ہیں...