ہماری مصیبتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ سب سے زیادہ جن علاقوں میں کام کرنا ہے وہ دیہات اور تعلقہ سطح کے علاقے ہیں. لیکن افسوس کہ تحریکیں اور سماجی کارکنان شہروں میں بھاری مجمع اور کثیر رقم جھونک دیتے ہیں.
مجھے اس بات کا حد درجہ غم رہے گا کہ کس طرح تحریکی افراد دیہی علاقوں کے لیے سفر کی مشکلات سے گھبراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک دو مقررین کے لیے سارا گاؤں ضلعی مقام پر جمع ہو جاءے
اللہ کا شکر ہے کہ اس زمانہ میں بھی ایسے افراد زندہ ہیں جو لوگوں کی ضرورتوں اور تحریکی اعلامیہ کو خود چل کر گھر گھر پہنچاتے ہیں.