پیغام - کورونا اور ہماری ذمہ داری، 6 اپریل 2020

Saturday, September 12, 2020

واٹسآپ پر جس طرح کے پیغامات آ رہے ہیں وہ ہمیں،  معاشرے سے الگ کرتے ہیں.... بحیثیت مومن کے، مسلمانوں کا کام اور ذمہداری اور بھی زیادہ بڑھ چکی ہے.

یہ کہنا کہ یہ آفت غیروں کے لیے ہے، راہ فرار ہے. کورونا ہر خاص وعام کے لیے برابر ہے.

مستقبل میں کیا حالات ہو سکتے ہیں، اللہ بہتر جانتا ہے لیکن اس وقت جو مزاج قوم کے اکثر افراد کا بن چکا ہے وہ نہایت ہی غیر ذمہدارانہ ہے.   یہ گمان کہ کورونا اللہ کی طرف سے غیروں کے لیے عذاب ہے اور مسلم اس سے مستثنی ہے،  ہماری غفلت کی نشانی ہے.  یہ گمان کرلینا ہمیں انسانیت سے الگ تھلگ کرتا ہے. یہ یہودیوں جیسی علامات ہیں. 

اس وقت ہر ذی شعور انسان احتیاطی تدابیر اختیار کرے. ایکدوسرے کے لیے مصبیت کا کا ذریعہ نہ بنیں. غیر مسلم برادران کے درمیان ایسی کوئی گفتگو نہ کریں کہ جس سے اللہ اور ایشور کی لکیر بن جاءے. اسلامی مشن اور دعوت کا یہ سب سے بہترین موقع ہے. انسانوں کو ہمدردی کی ضرورت ہے. انکے کام آءیں. معاملات کو سنجیدگی سے لیں. دنیا کے سبھی ممالک اس وبا میں گرفتار ہے. آفت کے وقت، اپنے مقابل والوں پر ہنسنا، ان پر طنز کرنا، مارے حسد و جلن کے جلی کٹی باتیں کرنا کمینے اور کم ظرف لوگوں کی علامت ہے. اپنے ظرف کو پہچانیے. مومن کی طرح برتاؤ کیجیے. حسن اخلاق سے اور اچھی باتوں کی تلقین کر کے اپنے ہمسایوں کا دل جیتیں...

غلط الفاظ کا انتخاب کرکے، خدا کے غضب کو دعوت نہ دیں.. وبا ہر خاص وعام کے لیے ہے. اللہ سے دعا کریں کہ اس وبا سے سارے انسانوں کو محفوظ رکھے. 

لایعنی گفتگو، سازشی منصوبے اور ممالک کی دشمنی کو چھوڑ اس وقت، اپنے مسلم ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے فکر و عمل سے اسلام بنام انسانیت کا پیغام کا اظہار کریں.

جہاں یہ وبا ہے وہاں بھی اور جہاں یہ وبا اب تک نہیں پھیلی وہاں بھی. 

دعاؤں کا اہتمام کریں.

کورونا وباء میں دفعہ 144

Saturday, September 12, 2020

وہ مرد حضرات بھی خواتین سے کم نہیں جو دفعہ 144 کے اطلاق کے باوجود گھروں سے باہر نکل کر  محلہ میں گروپ بناتے ہیں اور  عورتوں کی طرح گپ شپ کرتے ہیں.  بیچاری خواتین مفت میں ہی بدنام ہیں...

حکایت

"شیر سے پنجہ آزمائی کرنا اور تلوار پر مکا مارنا عقلمندوں کا کام نہیں."

Saturday, September 12, 2020

آپ کو سب پتہ ہے. میڈیا کیا ہے، کیا کرتا ہے، کیسے اور کیوں کرتا ہے. اسے کون سی خبر چاہیے. کس کی تلاش میں رہتا ہے. کس قسم کے لوگوں کو چنیل والے بحث کے لیے بلاتے ہیں.  آپ کو سب پتہ ہے. آپ اتنے سیانے ہو کر بھی بیوقوفی والی بات کیوں کرتے ہیں یا ایک ہی بات کو کیوں دہراتے ہیںکہ میڈیا ایسا ویسا ہے. 

یا تو آپ کچھ کر نہیں سکتے، اسلیے بس کوستے رہتے ہیں یا پھر آپ، عوام کو بےوقوف سمجھتے ہیں اور انھیں یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو میڈیا کیا کر رہا ہے. 

عوام سب جانتی ہے اور عوام بھی آپ ہی کی طرح سطحی گفتگو کر کے دل کو دلاسہ دے دیتی ہے کہ چلو آج ہم نے میڈیا کو خوب گالی گلوچ کر دی اور یوں معاملہ برابر ہوگیا. 


آپ کی مثال اس سست، اجڑ دماغ شخص کی سی ہے جو روز گھر سے باہر کام کے لیے نکلتا ہے. راستہ میں ایک فریبی، چالاک، چرب زبان، الفاظ سے کھیلنے والا دشمن، گھر کے باہر  گھات لگا کر کرسی پر بیٹھا ہے. جوںہی آپ نظر آءے اس نے گالی بکنا شروع کر دی. آپ خاموشی سے آگے چل دیے. آپکے قدم بڑھانے کی رفتار کے ساتھ ہی اسکی گالیوں کی آواز بھی بڑھتی جاتی ہے. آپ رک جاتے ہیں. وہ اور گندی گالی دیتا ہے. آپ مڑکر پیچھے دیکھتے ہیں تو وہ زوردار  قہقہہ لگا کر نت نءی اقسام کی گالیاں دیتا ہے. پھر آپ کا مزاج پڑھ کر وہ اپنے کپڑے اتارتا ہے اور گندے اشارے کرتا ہے. آپ تلملا کر اسکی طرف بڑھتے ہیں. شکار کو اپنی طرف آتا دیکھ  اب وہ پورا ننگا ہوجاتا ہے اور زور زور سے گالیوں کی دوسری قسط جو پہلے سے طے ہے، بکنا شروع کر دیتا ہے. 

اب آپ بھی اس کی گالیوں کا علاج، اپنے محدود علم سے کرتے ہیں. دو چار گالیاں آس پاس کے لوگوں سے لے لیتے ہیں. یوں آپ وہیں کھڑے کھڑے صبح سے دوپہر کر دیتے ہیں. آنے جانے والے محظوظ ہوتے ہیں. کچھ لوگ مشورہ میں نءی گالیاں سکھا کر چل دیتے ہیں لیکن آپکو اٹکا کر رکھنے والا شخص، جو اسی کام کے لیے معمور ہے، آپکو الجھاءے رکھتا ہے.


یوں آپ اپنے کام سے تو گءے ہی، ساتھ ساتھ شام ہوتے  ہوتے گھر میں ایک نءی پریشانی لیکر آتے ہیں. سب کو اس بابت آگاہ کرتے ہیں اور پھر ضرورت سے زیادہ عقلمندی کا مظاہرے کرتے ہوءے دوسرے دن اپنے حمایتی افراد کے ساتھ پہنچ کر گالیوں کا جواب گالیوں سے دیتے ہیں.


حاصل کلام یہ ہے کہ آپ نہ تو کچھ کام کے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو انکے حصہ کام کرنے دے رہے ہیں. آپ خود کو عقلمند سمجھ کر جو قدم اٹھا رہے ہیں در اصل میڈیا چاہتا وہی ہے.


بقول  شیخ سعدی

"شیر سے پنجہ آزمائی کرنا اور تلوار پر مکا مارنا عقلمندوں کا کام نہیں."
 


 

بغداد کا مولوی

Saturday, September 12, 2020

 Time Traveller - 2030

جب ہندو راشٹر بن رہا تھا تو مسلمان عموماً اور مولوی خصوصاً ایسی ویسی باتیں کر رہے تھے.


آج جیسے تم ہو، میں بھی بالکل ایسا ہی تھا

-بغداد کا مولوی


 

ertugurl

ارطغرل

Saturday, September 12, 2020

کچھ لوگ ذہنی پچھڑے پن کی علامت لیے انٹرنیٹ پر ارطغرل ڈرامہ ہندی میں تلاش کر رہے ہیں.

 بے غیرتی اور بے شرمی کی حد یہ ہے کہ اپنے اطراف میں لوگوں سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ ارطغرل ڈرامہ ہندی میں ہوگا تو بھیجو!!

سچر کمیٹی میں جگہ پانے والو!!

ارطغرل کو پڑوسیوں نے اردو میں ریلیز کیا ہے. ہندی میں نہیں.

فیسبک پر پسند کیجیئے

فلک آر تصاویر