واٹسآپ پر جس طرح کے پیغامات آ رہے ہیں وہ ہمیں، معاشرے سے الگ کرتے ہیں.... بحیثیت مومن کے، مسلمانوں کا کام اور ذمہداری اور بھی زیادہ بڑھ چکی ہے.
یہ کہنا کہ یہ آفت غیروں کے لیے ہے، راہ فرار ہے. کورونا ہر خاص وعام کے لیے برابر ہے.
مستقبل میں کیا حالات ہو سکتے ہیں، اللہ بہتر جانتا ہے لیکن اس وقت جو مزاج قوم کے اکثر افراد کا بن چکا ہے وہ نہایت ہی غیر ذمہدارانہ ہے. یہ گمان کہ کورونا اللہ کی طرف سے غیروں کے لیے عذاب ہے اور مسلم اس سے مستثنی ہے، ہماری غفلت کی نشانی ہے. یہ گمان کرلینا ہمیں انسانیت سے الگ تھلگ کرتا ہے. یہ یہودیوں جیسی علامات ہیں.
اس وقت ہر ذی شعور انسان احتیاطی تدابیر اختیار کرے. ایکدوسرے کے لیے مصبیت کا کا ذریعہ نہ بنیں. غیر مسلم برادران کے درمیان ایسی کوئی گفتگو نہ کریں کہ جس سے اللہ اور ایشور کی لکیر بن جاءے. اسلامی مشن اور دعوت کا یہ سب سے بہترین موقع ہے. انسانوں کو ہمدردی کی ضرورت ہے. انکے کام آءیں. معاملات کو سنجیدگی سے لیں. دنیا کے سبھی ممالک اس وبا میں گرفتار ہے. آفت کے وقت، اپنے مقابل والوں پر ہنسنا، ان پر طنز کرنا، مارے حسد و جلن کے جلی کٹی باتیں کرنا کمینے اور کم ظرف لوگوں کی علامت ہے. اپنے ظرف کو پہچانیے. مومن کی طرح برتاؤ کیجیے. حسن اخلاق سے اور اچھی باتوں کی تلقین کر کے اپنے ہمسایوں کا دل جیتیں...
غلط الفاظ کا انتخاب کرکے، خدا کے غضب کو دعوت نہ دیں.. وبا ہر خاص وعام کے لیے ہے. اللہ سے دعا کریں کہ اس وبا سے سارے انسانوں کو محفوظ رکھے.
لایعنی گفتگو، سازشی منصوبے اور ممالک کی دشمنی کو چھوڑ اس وقت، اپنے مسلم ہونے کا ثبوت دیں اور اپنے فکر و عمل سے اسلام بنام انسانیت کا پیغام کا اظہار کریں.
جہاں یہ وبا ہے وہاں بھی اور جہاں یہ وبا اب تک نہیں پھیلی وہاں بھی.
دعاؤں کا اہتمام کریں.