عالم اسلام میں جاری شدید بحران اور جنگی جرائم کے باوجود بستی کی سبھی مساجد کے منبروں سے عالم عربی کے تعلق اس قدر بے تعلقی برتی جا رہی ہے مانو ہم سب کو اس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں. وقت کے امام و خطیب کو چاہیے کہ وہ عوام الناس کو فضائل و مسائل سے نکال کر حالاتِ حاضرہ پر تجزیاتی و فکری گفتگو پیش کریں.
جس رات ایران پر حملہ ہوا اس وقت پاکستانی لکھاریوں نے خوب بھڑاس نکالی. ایران کے گناہ گنوائے اور فیصلہ سنا دیا کہ ایران برباد ہوگیا. اس سے برا برا ان ڈالر چھاپ لکھاریوں نے اس وقت بھی لکھا تھا جب افغانستان پر امریکا اور اسکے حواری چڑھ دوڑے تھے.
دوسرے دن جب ایران نے جواب دیا تو انکی قلم کی ہوا نکل گئی اور اب ایران انکا اسلامی بھائی بن گیا... سب سے زیادہ بدمعاش ڈالر چھاپ پاکستان میں پنپتے ہیں اور بھارت میں ریال خور...
پاکستانی عوام سے بعید ، یہ بات وہاں موجود نظریہ ساز قلمی افراد کے لیے کہی گئی.